International Breaking News About China And India

International Breaking News About China And India

International Breaking News About China And India


چین اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد سے تو بھارتی میڈیا کے ہاتھ ایک اور کھلونا لگ گیا ہے ۔ ایسی ایسی ڈرامے بازیاں کی جا رہی ہیں کہ جنہیں بڑی حد تک پاکستانی پنجابی فلموں سے تشبیہ دی جاسکتی ہے‘ ایسی فلمیں جنہیں زمانہ ٔجہالت کا کوئی انسان بھی دیکھے تو وہ اپنا سر پیٹنے پر مجبور ہوجائے۔ خیر اب تو ہمارے ہاں وحشی‘ بدمعاش‘ خوانخوار مارکہ فلموں کا دور قریباً ختم ہوچکا‘ لیکن ان کی جھلک دیکھنا مقصود ہو تو بھارتی نیوز چینلز اچھا متبادل قرار دئیے جاسکتے ہیں۔کوئی شک نہیں کہ چین اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی خطے کی مجموعی صورتِ حال پر بھی اپنے اثرات مرتب کرے گی۔ اب‘ لداخ کی سرحد پر چین اور بھارت کے درمیان تو جو کچھ ہورہا ہے‘ وہ تو اپنی جگہ‘ لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو بھی اس تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔بظاہر تو یہی دکھائی دے رہا ہے کہ بھارت‘ چین‘ اور بھارت پاکستان کے درمیان کشیدگی میںمزید اضافے کے امکانات بھی پوری طرح سے موجود ہیں‘ اس حوالے سے تینوں ممالک کے اپنے اپنے مفادات تو ہی ہیں‘ جن کے تحفظ کے لیے کہیں عسکری تو کہیں سفارتی جنگ جاری ہے۔ اس صورت ِحال میں مزید خرابی پیدا کرنے میں بھارتی میڈیا بھی حسب ِروایت پوری طرح سے سرگرم نظرآرہا ہے‘ اسی تناظر میں چینی حکومت کی طرف سے مودی سرکار کو یہ پیغام بھی دیا گیا تھا کہ مزید خرابی سے بچنے کے لیے اُسے اپنے میڈیا کو کنٹرول کرنا چاہیے۔ ایسا ہوا بھی کہ بھارتی حکومت نے اپنے میڈیا پر کچھ پابندیاں عائد بھی کیں۔ ابھی اس سے پہلے گزشتہ ماہ ہی گلف نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ بھارتی میڈیا ہندوستانی تارکین ِوطن میں نفرت پھیلانے کا باعث بن رہا ہے۔ تب گلف میں بھارتی چینلز پر پابندی کی بازگشت بھی سنائی دی تھی۔ پاکستان کے لیے تو بھارتی میڈیا کے اس شرمناک رویے میں کچھ نیا نہیں ہے کہ ہم تو برسوں سے یہ سب کچھ دیکھتے اور سنتے آرہے ہیں۔ ابھی ٹڈی دل کے جاری حملوں کے بارے میں بھارتی میڈیا پر جو کچھ پیش گیا ‘ اُسے دیکھ کر انسان اپنا سرپیٹنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتا۔ایک انڈین نجی ٹی وی کے پروگرام کے ابتدائی کلمات پڑھیے: ''ہم اپنی جنتا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان اب ٹڈیوں کے ذریعہ بھارت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہے‘ آئیے اس بات کا خلاصہ کرتے ہیں کہ کیا یہ پاکستان کی کوئی نئی سازش ہے؟‘‘پھر کبوتر کو جاسوس قرار دئیے جانے والی خبریں تو ابھی 
 کل بات ہے۔

اس خبر کو لے کر بھی بھارت کے مختلف چینلز نے آسمان سر پر اُٹھائے رکھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس پر میں نے روزنامہ'' دنیا‘‘ کے لیے ایک سٹوری بھی فائل کی تھی۔ اس کی تیاری کے دوران معلوم ہوا کہ سرحدی ممالک میں بھارتی کبوتروں کا پاکستان آجانا اور پاکستانی کبوتروں کا بھارت چلے جانا معمول کی بات ہے۔ دوسرے شہروں کا تو معلوم نہیں‘ لیکن لبان والا‘ بھانو چک اور واہگہ اور لاہور کے متعدد دوسرے سرحدی دیہات میں کبوتر بازی کے حوالے سے کچھ شد بد تو ہمیں بھی ہے۔ اس بارے میں سٹوری کی تیاری کے دوران مزید باتوں کا بھی علم ہوا ۔ وہاں رہنے والے کبوتر باز اس صورت ِحال پر بہت پریشان دکھائی دئیے کہ جب بھی تیز ہوا چلتی ہے تو اُن کے بہت سے کبوتر سرحد پار کرجاتے ہیں۔ کبوتربازوں کے مطابق‘ بہت سے کبوتر تو کئی کئی روز بعد بھی واپس آجاتے ہیں‘ لیکن اکثر ایسا نہیں بھی ہوتا۔ وہ قیمتی کبوتروں کے ہاتھ سے نکل جانے پر زیادہ پریشان دکھائی دئیے۔ اس سب کے باوجود سرحد پار کرکے بھارت چلے جانے والے کبوتر کو جاسوس قرار دے کر وہ ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ خدا کی پناہ۔ بھارتی میڈیا تو ایک طرف رہا‘ خود بھارتی پولیس تحقیقات کرتی رہی۔ اس پر دنیا کے مختلف اخبارات میں تبصرے شائع ہوئے تو سوشل میڈیا پر بھی ان حماقتوں کا مزہ لیا جاتا رہا۔ بعد میں بھارتیوں کی طرف سے باقاعدہ اعلان ہوا کہ کبوتر کے جاسوس ہونے کی بات غلط ثابت ہوئی ہے۔ بھارتی میڈیا کبھی بھی اپنی بھد اُڑوانے میں کسی سے پیچھے نہیں رہا۔فیس بک پر ایک بھارتی چینل کا کلپ نظروں سے گزرا ‘ اُس کلپ میں چینل کا اینکر کہہ رہا تھا کہ اگرچہ پاکستان کورونا کے شکنجے میں ہے‘ لیکن اس کے باوجود وہ جاسوس کبوتروں سے باز نہیں آرہا ۔ اس مدعے کو لے کر چینل پر دوسرے ماہرین نے بھی اپنی بھرپور دانشوری جھاڑی ۔ یہ سب سننا کافی مزے کا تجربہ رہا تھا۔ ابھی یہ تو کل کی بات ہے‘ جب خوب صور ت بھارتی مہیلا اینکراپنے ناظرین کو چینی افواج کے ڈھانچے کے بارے میں بتا رہی تھی۔ اس دوران وہ کئی مرتبہ پیپلز لبریشن آرمی کی بجائے‘ پاکستان لبریشن آرمی بولتی رہی۔ یہ سب 
کرنے کا بظاہر ایک ہی مقصد دکھائی دیتا ہے کہ بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔
ہم تو اپنے اُستادوں سے ہمیشہ یہی سنتے آئے ہیں کہ میڈیا پرسن بس میڈیا پرسن ہوتا ہے کوئی محتسب نہیں ۔اُستادوں کے اُستاد مرحوم مغیث الدین شیخ صاحب ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ مہمان سے زیادہ اور لمبے لمبے سوالات کرنے کے بعد اُسے بولنے کا بھرپورموقع دینا چاہیے‘ اگر اُس کا جواب اپنی کی مرضی کے مطابق نہ ہوتو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ محتسب بننے کی کوشش کرنا شروع کردیں۔ اُن کے اور متعدد دیگر اُستادوں کے مطابق اب‘ اس کے بالکل اُلٹ ہورہا ہے۔ اب ‘میزبان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بولے اور اس طرح کا طرزِ عمل اپنائے کہ دوسرے اُس کی طرف متوجہ ہوں۔ بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے‘ چیخ چیخ کر بولنے والوں سے ہمیں ہمیشہ سے ہی عجیب سی چڑ رہی ہے۔ یہ کیا ضروری ہے کہ پروگرام میں آئے ہوئے مہمانوں سے اپنی مرضی کی باتیں کہلوانے کے لیے اُنہیں زچ کیا جائے۔ اس بات پر ہماری اپنے اینکر دوستوں سے بحث مباحثہ بھی چلتا رہتا ہے‘ لیکن یہ ماننا ہو گا کہ ہمارے ہاں بڑی حد تک صحافتی اصولوں کی پاسداری کی جاتی ہے ‘اگر کبھی بھارتی اینکرز اور اپنے اینکرز کا موازنہ کیا جائے تو کافی خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ہمارے اینکرز کا ہر جملہ نپا تلا اور دھیما انداز اور پھر پروگرام دیکھنے والے کو بھرپورمعلومات بھی حاصل بھی ہوتی ہیں۔ ہمارے کئی اینکرز مہذب انداز میں بات کرتے ہیں۔ دوسری طرف سچی بات ہے کہ بھارتی اینکرز نے تو لٹیا ہی ڈبو دی ہے۔ بحیثیت ِمجموعی بھارتی میڈیا کا کرداراچھا نہیں‘ لیکن کچھ اینکرز کو توشاید بھرتی ہی اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ رنگ بازی سے چینلز کی ریٹنگ بڑھائیں۔ بہت سے نام ہیں ‘جو لیے جاسکتے ہیں‘ لیکن ایسا کرنے سے ان کی پرموشن ہی ہوگی تو پھر کیا فائدہ؟ یہ بھی ایک ٹرینڈ بن چکا کہ اُلٹا سیدھا کرو‘ اُسے سوشل میڈیا پر بھی ڈال دو اور پھر چاہے اس کی مخالفت میں ہی ریمارکس کیوں نہ آئیں‘ پروموشن تو ہو ہی رہی ہوتی ہے


موجودہ بھارتی وزیراعظم کے دوسری بار اقتدار میں آنے کے بعد شدت پسندی بھارت کی پہچان بن چکی ہے‘ جبکہ دنیا یہ جان چکی ہے کہ انتہاپسندی کا راستہ سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ لے کر نہیں آتا۔اس حوالے سے یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ اس روش کو فروغ دینے والوں کے اپنے مفادات تھی۔ تو جان لیجئے کہ بھارت میں برسراقتدار جماعت کے بھی اپنے مفادات ہے۔ ان مفادات کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے ہی وہ انتہا پسندی کو فروغ دیتی جارہی ہے‘ اُسے اپنے اقتدار کی بقا‘ انتہاپسندی میں دکھائی دیتی ہے۔ اس مقصد کے لیے سب سے زیادہ بھارتی میڈیا کو استعمال کیا گیا۔ کئی ایک مواقع پر یہ بات سامنے آچکی ہے کہ بھارتی حکومت ‘ مختلف میڈیا ہاوسز کو مالی امداد دیتی ہے‘ اسی امدا د کو حلال کرنے کے لیے بھارتی میڈیا‘ صحافتی اُصولوں کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔ اس وقت بھارت میں انتہا پسندی عروج پر ہے۔ دوسری طرف بھارت کے اپنے تین اہم ہمسائیوں‘ چین‘ پاکستان اور نیپال کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔ چین کے ساتھ تو ہاتھا پائی بھی ہورہی ہے۔ اس تمام تر صورتِ حال کو مزید خطرناک بنانے میں بھارتی میڈیا یقینا شرمناک کردار ادا کررہا ہے۔ اس میں اُسے اپنی حکومت کی بھرپورآشیر باد حاصل ہے ۔ شاید یہ بھلا دیا گیا ہے کہ انتہا پسندی کے کھلونے سے کھیلنا‘ بالآخر خود کے لیے ہی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments